پیر 12 اکتوبر 2026 - 07:10
مدارس اسلام کا قلعہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں؛ مدارس صدیوں سے امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، مولانا مرید حسین نقوی

حوزہ/وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیرِ اہتمام ”مدیران مدارس کانفرنس“ کا انعقاد مکتب زہراء نخولی سپنگ سکردو میں کیا گیا؛ جس میں بلتستان بھر سے دینی اداروں کے پرنسپل صاحبان نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیرِ اہتمام ”مدیران مدارس کانفرنس“ کا انعقاد مکتب زہراء نخولی سپنگ سکردو میں کیا گیا؛ جس میں بلتستان بھر سے دینی اداروں کے پرنسپل صاحبان نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ علامہ مرید حسین نقوی نے کہا کہ مدارس اسلام کے قلعے اور معاشرے کی ضرورت ہیں۔ صدیوں سے امت مسلمہ کی رہنمائی اور تربیت کا فریضہ مدارس دینیہ سر انجام دے رہے ہیں ۔مدارس ہی پیغام قرآن و حدیث اور سیرت اہل بیت علیہم السلام کو عوام الناس تک پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج سے پہلے مدارس اور مدارس سے وابستہ افراد کا تعارف اتنا نہیں تھا، جتنا آج ہے۔ آج دنیا بھر کے لوگ جانتے ہیں کہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی، شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ولی امرالمسلمین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، سیدحسن نصراللہ اور دیگر شخصیات مدارس ہی سے فارغ التحصیل ہیں؛ جنہوں نے مدارس تشکیل دیئے اور درس و تدریس کا کام کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مدارس سے نکلنے والے لوگوں نے ہی اسلام کا تحفظ کیا، دفاعی نظام تشکیل دیا اور آج مدارس سے وابستہ افراد کے ہاتھوں دنیا تسخیر ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس سے نکلنے والے لوگوں سے عالم کفر پریشان ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں مدارس کے لوگوں سے مرعوب ہوئی ہے، لیکن مدارس کے لوگوں کو مرعوب نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مدارس اسلامی عقائد کی ترویج اور نشر و اشاعت کے لئے کار رسالت کی انجام دہی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علامہ مرید حسین شاہ نے کہا کہ آج بہت سے طلبہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد خطابت، امامت، وکالت اور دیگر شعبوں میں چلے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں ماہر اور تربیت یافتہ مدرسین کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ابھی سے ایسے طلبہ کی نشاندہی کی جائے جو مستقبل میں تدریس کے میدان میں خدمات انجام دے سکتے ہیں ،تاکہ ان کی خصوصی علمی و تربیتی تیاری کی جائے۔

علامہ شیخ حسن سروری نے وفاق المدارس کی خدمات اور اس کے تعلیمی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وفاق نے طویل عرصے سے مدارسِ دینیہ کے طلبہ اور علماءکے لیے منظم امتحانی اور اسناد کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ اس نظام کے ذریعے مختلف علاقوں کے طلبہ کو اپنی دینی تعلیم کو باقاعدہ امتحانات اور اسناد کے ذریعے آگے بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس کے نظام سے خواتین بھی استفادہ کر رہی ہیں اور قرآن، تجوید اور دیگر شعبوں میں خواتین کے لیے بھی امتحانات اور اسناد کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے وفاق کے نصاب کو جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے طلبہ میں خطابت، تحریر اور دینی علوم کے ساتھ عملی صلاحیتیں پیدا کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی خصوصی نمائندے علامہ لعل حسین توحیدی نے وفاق کے قیام، تاریخی پس منظر، امتحانی نظام اور اسناد کی افادیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاق المدارس کئی دہائیوں سے مدارس کے لیے ایک مرکزی تعلیمی و امتحانی نظام کے طور پر کام کر رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے دائرہ کار میں وسعت آئی ہے۔

کانفرنس میں نئے مدارس دینیہ اور قرآن سینٹرز کے وفاق المدارس الشیعہ سے الحاق کے معاملات بھی زیر بحث لائے گئے۔

اس موقع پر مکتب زہراء میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ذیلی ریجنل دفتر کا افتتاح مولانا مرید حسین نقوی نے کیا۔

مدارس اسلام کا قلعہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں؛ مدارس صدیوں سے امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، مولانا مرید حسین نقوی

یہ دفتر علاقائی مدارس کے لئے وفاق المدارس کے دفتر سے رابطے کا کام کرے گا، مولانا محمد جواد حافظی پہلے ہی وفاق المدارس کے نمائندہ بلتستان نامزد ہوچکے ہیں۔

اس کانفرنس میں مدارس کے کردار، بہبود وترقی اور مشکلات، طلبہ کی تعداد بڑھانے اور معیار تعلیم پر بھی گفتگو کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha